نئی دہلی:31/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) ہندوستان اور پاکستان میں ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو طلب کیے جانے سے سفارتی تناؤ کے درمیان ہندوستان نے پاکستان پر جمعرات کو دوہرے پن کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ایک طرف وہ امن اور دوستی کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف وہ ہندوستان کے اتحاد، اقتدار اعلی اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی پرزور کوششیں کررہا ہے۔پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کشمیری علیحدگی پسند لیڈر اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے اصلاح پسند گروپ کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد ہوئے اس واقعہ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ’’اس قدم سے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستانی حکومت پوری طرح سے ایسے عناصر کو بڑھایا دیتا ہے اور اکساتا ہے جو دہشت گردی اور ہندوستان مخالف سرگرمیوں سے منسلک ہیں‘‘۔مسٹر رویش کمار نے کہاہے کہ پاکستان کے اعمال سے اس کی حکومت کے دوچہرے لوگوں کے سامنے آگئے ہیں۔